بنگلورو۔19؍نومبر(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے کہاکہ ریاست کی معاشی حالت دیوالیہ ہوچکی ہے، ریاستی حکومت سنگین خشک سالی سے متاثر عوام اور کسانوں کی مشکلات کو مکمل طور پر نظر انداز کرچکی ہے۔آج ہبلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست کا انتظامیہ پوری طرح بکھر چکا ہے۔ ریاست کی مالی حالت دیوالیہ پن کی طرف رواں دواں ہے۔ خشک سالی سے متاثر عوام کیلئے پانی ، جانوروں کیلئے چارہ ، کسانوں کیلئے معاوضہ حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوآپریٹیو اداروں سے کسانوں نے جو قرضہ جات لئے ہیں ان کو معاف کرنے کی بجائے حکومت بہانے بازی سے کام لے رہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی طرف سے کی گئی تنقید پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر کوئی ان کو نشانہ بناکر اگر کچھ کہتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس کا جواب دیتے پھریں۔ یڈیورپا نے کہا کہ ریاست میں اس بار عوام بی جے پی کے ساتھ ہیں ، ریاست میں اگلی حکومت بی جے پی کی ہی ہوگی۔ ریاست میں کسانوں کو درپیش مشکلات اور ان سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کے علاوہ مہادائی مسئلے کو سلجھانے میں حکومت کی ناکامی پر بلگاوی لیجسلیچر اجلاس میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر سے انہوں نے اس سلسلے میں بات چیت کی ہے اورانہیں چند ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی بی جے پی مہادائی مسئلے کو سلجھانے کی پابند ہے۔ تینوں ریاستوں میں حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر اگر اتفاق رائے سے فیصلہ لیاتو 24 گھنٹوں میں مسئلے کو سلجھایا جاسکتا ہے۔اس موقع پر بی جے پی رکن پارلیمان شوبھاکارند لاجے نے وزیر اعظم مودی کی طرف سے نوٹوں پر پابندی لگانے کے فیصلے کو انقلابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ کانگریس کوہضم نہیں ہوپارہا ہے،کیونکہ مودی کے اس اقدام سے ملک میں کالا دھن پوری طرح بند ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس نے اس ملک کی عوام کی فلاح کیلئے اب تک کچھ نہیں کیا، صرف اپنی ترقی کی فکر مندرہی۔اب جبکہ وزیراعظم ملک کے تمام شہریوں کی ترقی چاہتے ہیں، کانگریس غیر ضروری طور پر نوٹوں پر پابندی کی مخالفت کررہی ہے۔